Skip to content →

متحدہ عرب امارات-اسرائیل معاہدہ صرف اور صرف امریکہ اور اسرائیل کے مفاد میں ہے

ڈاکٹر ظفر الاسلام خان —

13 اگست 2020 کو جاری ہونے والے متحدہ عرب امارات-اسرائیل اعلان نے مجھے حیرت میں نہیں ڈالا۔ یہ معاہدہ گذشتہ تین دہائیوں سے قطر اور سعودی عرب سمیت خلیجی ریاستوں کے ساتھ بڑھتے ہوئے اسرائیلی تعلقات کی تازہ ترین کڑی ہے۔

یہ معاہدہ عرب ریاستوں اور اسرائیل کے مابین جاری تعلقات میں ایک نئی لہر کا آغاز ہے۔ اس وقت کم از کم 15 عرب ریاستوں نے کسی نہ کسی طرح اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کر رکھے ہیں۔ متحدہ عرب امارات اسرائیل کے ساتھ کھل کر مکمل سفارتی تعلقات قائم کرنے والا مصر اور اردن کے بعد تیسرا عرب ملک ہے۔

اس سب میں اصل مجرم فلسطینی قیادت کا ایک طبقہ ہے جس نے فتح اور تنظیم آزادیٔ فلسطین ( پی ایل او) کی سربراہی میں 1992-1993 میں بد نصیب اوسلو معاہدے کا دروازہ کھولا جس نے اسرائیل کو فلسطین کے مقبوضہ علاقوں پر اپنا کنٹرول مزید مستحکم کرنے کا موقعہ فراہم کیا۔ اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے مابین سیکیورٹی انتظامات کی بدولت خود فلسطینی، اسرائیلی قبضے کے محافظ بن گئے ۔ مزید برآں اوسلو معاہدے کی وجہ سے ساری دنیا نے اسرائیل کو تسلیم کرلیا کیونکہ ان کو بتایا گیا کہ اب فلسطینی مسئلہ حل ہوگیا ہے۔ اوسلو معاہدے کے مطابق پانچ سال میں قائم ہونے والی خود مختار فلسطینی حکومت اٹھائیس سال بعد آج بھی محض ایک خواب ہے۔ اوسلو معاہدے کے باوجود فلسطینی زمین پر ہر چیز اسرائیلی مرضی کے مطابق جاری و ساری رہی ۔ مقبوضہ علاقوں پر اسرائیلی کنٹرول مزید مستحکم ہوگیا، فلسطینی اراضی پر قبضہ کرکے ان پر غیرقانونی یہودی بستیوں کی تعمیر کا سلسلہ اور تیز ہوگیا اور خاص طور پر مقبوضہ بیت المقدس میں زمینی طور پر صورتحال اسرائیل کی مرضی کے مطابق مسلسل بدلتی رہی اور فلسطینیوں کے پاؤں تلے زمین مسلسل کھنچتی رہی ۔

متحدہ عرب امارات نے اس معاہدے کو یہ کہ کر بیچنے کی کوشش کی ہے کہ اس سے مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی زمینوں کے مجوزہ الحاق کا اسرائیلی پلان رک جائے گا حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ’’عملی‘‘ طور سے اسرائیل کا اس زمین پر پورا تسلط اب بھی ہے جسے وہ اب ’’قانونی‘‘ تسلط کی شکل دینا چاہتا ہے۔ اسرائیل کے مغربی کنارے کی زمینوں کو’’قانونی‘‘ الحاق کے فیصلے سے پیچھے ہٹنے کی وجہ زبردست فلسطینی اور بین الاقوامی رد عمل ہے ۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ امریکی حکومت نے یہ شرط لاحق کردی ہے کہ یہ کام صرف ایک نمائندہ اسرائیلی حکومت کرسکتی ہے جبکہ نتنیاہو کی موجودہ حکومت اکثر اسرائیلیوں کی نمائندگی نہیں کرتی ہے۔

اس معاہدے سےسارا فائدہ صرف اسرائیل کو حاصل ہوگا جبکہ متحدہ عرب امارات کو کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا۔ متحدہ عرب امارات اسرائیل پر دباؤ ڈالنے یا اس کو کسی بات کے ماننے پر مجبور کرنے کی طاقت سے محروم ہے ۔ وہ ایسی جیو اسٹریٹیجک پوزیشن میں نہیں ہے جس میں وہ اسرائیل سے کچھ منواسکے ۔

اس نئے معاہدے سے کسی بھی طرح غزہ پر اس اسرائیلی دباؤ کو ختم یا کم کرنے میں مدد نہیں ملے گی جسے اس نے گذشتہ 13 سالوں سے مکمل ناکہ بندی کی صورت میں جاری رکھ کر غزہ کو دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل کردیا ہے۔ غزہ کو 2007 ، 2008 ، 2012 اور 2014 میں بڑے پیمانے پر اسرائیلی جارحیتوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

حقیقت ہے کہ یہ معاہدہ صرف ٹرمپ کی انتخابی مہم کو فائدہ پہنچائے گا ۔ یہ معاہدہ دراصل ٹرمپ انتظامیہ کی نام نہاد ’’صدی کی ڈیل‘‘ کا ایک حصہ ہے جو فلسطین کے مسئلے کو ہمیشہ کے لئے دفن کرنے کی ایک کوشش ہے۔ ٹرمپ بالفعل اس معاہدے کو اپنی انتظامیہ کی خارجہ پالیسی کا کارنامہ قرار دے رہے ہیں۔

بحرین اور دیگر خلیجی ریاستیں بھی اس معاملے پر عمل پیرا ہونے کے لئے خود کو تیار کررہی ہیں۔ سلطنت عمان کے بھی اسرائیل کے ساتھ سفارتخانے کے بغیر تقریبا معمول کے تعلقات ہیں۔ یہاں تک کہ اسرائیلی وزیر اعظم نتنیاھو نے اکتوبر 2018 میں عمان کا دورہ بھی کیا تھا۔ شہزادہ ترکی الفیصل اور جنرل انور عشقی سمیت کئی اعلی سعودی شخصیات نے گذشتہ چھ سالوں کے دوران بار بار اسرائیل کا دورہ کیا ہے۔ گذشتہ سال ابو ظبی نے اسرائیل اور یورپ گیس پائپ لائن کو مالی اعانت دینے پر اتفاق کیا تھا۔

لیکن یہ سب ناکام ہوجائے گا کیونکہ فلسطینی عوام اسرائیلی قبضے کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں اور تقریبا 90 فیصد عرب عوام اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے سے اس وقت تک انکار کرتے رہیں گے جب تک کہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق ایک خودمختار فلسطینی ریاست حقیقت نہ بن جائے۔

Published in Articles Urdu

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *