Skip to content →

شریعت اور یونیفارم سول کوڈ : اصل مسئلہ کچھ اور ہے

از ڈاکٹر ظفر الاسلام خان

آر ایس ایس خاندان اور کچھ دوسرے لوگ یونیفارم سول کوڈ کا مطالبہ کررہے ہیں ۔یہ لوگ دستورہند کے توجیہی مبادیDirective principlesکا سہارا لے کر یہ بات کرتے ہیں، حالانکہ دستور ہند میں اس کے علاوہ مزیدبائیس (۲۲ (توجیہی مبادی موجود ہیں جن پر آج تک عمل نہیں ہوا اور وہ یہ ہیں: شراب بندی اور منشیات پر پابندی (آرٹیکل ۴۷) ،حفظان صحت(آرٹیکل ۴۷) ، سب کو تعلیم ، غذا اور معیاری معیشت کی فراہمی اور غریب عوام کو ہر طرح کے استحصال سے بچانا(آرٹیکل ۴۶)، مردو زن کی برابری ، وسائل کی عادلانہ تقسیم اوردولت کو چند ہاتھوں میں جمع ہونے سے روکنا (آرٹیکل ۳۹)، سب کو انصاف مہیا کرانا اور اس بات کا انتظام کرنا کہ غربت کی وجہ سے کوئی انصاف سے محروم نہ رہ جائے(آرٹیکل ۳۹؍(A، تاریخی اہمیت کی عمارتوں او رآثار کے تحفظ کو یقینی بنانا(آرٹیکل ۴۹)، روزگار اور تعلیم کو یقینی بنانا ،روزگار سے محروم، بوڑھے، بیمار اور معذور کو سرکاری مدد اور روزگار کے عادلانہ انتظاما ت کرنا(آرٹیکل ۴۱)، بچہ جننے والی ماؤں کو چھٹی اور معاوضہ(آرٹیکل ۴۲) ، گاؤں پنچایت کو اس طرح سے منظم کرنا کہ لوگ خود حکومت کرنے لگیں(آرٹیکل ۴۰(، انڈسٹری کے چلانے میں ورکروں کی شرکت (آرٹیکل ۴۳؍A)، جانوروں کی افزائش نسل اور گائے، بچھڑے اور دودھ دینے والے جانوروں کی حفاظت کرنا (آرٹیکل ۴۸)، عدلیہ کو انتظامیہ سے الگ کرنا(آرٹیکل ۵۰)، اجتماعی نظام کو یوں قائم کرنا کہ اجتماعی، اقتصادی اور سیاسی قومی زندگی کی ہر سطح پر انصاف پر حاوی رہے (آرٹیکل (۱) ۳۸) ،آمدنی میں تفاوت کو کم کرنا(آرٹیکل (۲) ۳۲)، اجتماعی مقام اور سہولتوں میں نابرابری کو ختم کرنا(آرٹیکل (۲)۳۸)، ورکروں کے لئے قابل معیشت تنخواہ، معقول معیار زندگی اور چھٹی کو یقینی بنانا اور دیہی علاقوں میں کاٹج انڈسٹریز کو فروغ دینا (آرٹیکل ۴۳)، عوام کے لئے پورے ملک میں ایک یونیفارم سول کوڈ مہیا کرانا (آرٹیکل ۴۴)، ۱۴سال تک کے بچوں کے لئے مفت اورالزامی تعلیم مہیا کرانا (آرٹیکل۴۵) ، مدہوش کرنے والی مشروبات اور نقصان پہنچانے والی منشیات کو غیر قانونی بنانا (آرٹیکل ۴۷) ، زراعت اور جانوروں کی افزائش کو جدید سائنسی خطوط پر منظم کرنا (آرٹیکل ۴۸ (، ماحولیات ،جنگلات اور جنگلی جانوروں کی حفاظت اور انہیں بہتر بنانا) آرٹیکل A؍۴۸)، بین الاقوامی سلامتی اور امن کو تقویت دینا، دوسری قوموں کے ساتھ عادلانہ اور شریفانہ تعلقات کو برقرار رکھنااور بین الاقوامی تنازعات کو تحکیم یعنی ثالثی کے ذریعہ حل کرانے کو تقویت دینا (آرٹیکل ۵۱)۔اس لمبی لسٹ میں یونیفارم سول کوڈ کا معاملہ بالکل آخر میں آتا ہے اور اس کی تلقین بھی بہت ہلکے الفاظ میں کی گئی ہے جبکہ بعض دوسری چیزوں کے لئے بہت سخت الفاظ استعمال کئے گئے ہیں لیکن ان میں سے کسی پر آج تک عمل نہیں ہوسکا ہے۔ پھر آخر یونیفارم سول کوڈ کے لئے کون سی جلدی ہے؟

سابق وزیر قانون ویرپاّ موئیلی کے مطابق ہمارے ملک میں ۲۰۰ سے لے کر۳۰۰ تک مختلف پرسنل لا ہیں ۔یونیفارم سول کوڈ کا نعرہ صرف مسلمانوں کو ہی نہیں بلکہ بہت سے دوسروں کوبھی متاثر کرتا ہے لیکن وہ ہماری طرح چھوئی موئی اور بے وقوف نہیں ہیں کہ وقت سے پہلے ہی دھما چوکڑی کرکے اپنی ساری توانائی خرچ کرلیں۔ سکھ، عیسائی، پارسی، گواکے پرتگالی قانون ماننے والے ،پوڈوچیری میں فرانسیسی قانون ماننے والے، ادیواسی، قبائلی، کیرالا کے عورتوں سے نسل اور میراث کے ماننے والے یعنی matrilinealنظام پر عمل کرنے والے ، پہاڑی لوگوں اور شمالی مشرقی علاقے کے بہت سے قبائل کے الگ الگ پرسنل لا ہیں۔یہاں تک کہ بوہرہ اور میو قوم کے بھی اپنے پرسنل لا ہیں۔کیا یہ سب ایسی کوئی تجویز مان لیں گے؟ اور سب سے پہلے کیا ہندو ایسے یونیفارم سول کوڈ کو مان لیں گے؟ جب ۱۹۵۵ میں ہندو پرسنل لا میں معمولی ترمیم ہوئی تھی تو ایک مہابھارت چھڑ گئی تھی اور اس وقت کے صدر جمہوریہ راجندر پرساد نے بڑی مشکل سے اس پر دستخط کئے تھے۔ اس لئے ہم کو خاموش رہنا چاہئے اور کہنا چاہئے کہ مجوزہ یونیفارم سول کوڈ کا جب ڈرافٹ سامنے آئے گا تو ہم اپنی رائے دیں گے۔ممکن ہے یہ کوڈ اسلام کے عین مطابق ہو کیونکہ اسلام سے بہتر کوئی عائلی قوانین کہیں نہیں ہیں۔ یہاں میں بتانا چاہتا ہوں کہ مصر کے عیسائی قبطی عدالتوں سے اکثر درخواست کرتے ہیں کہ ان کے مقدمے کا فیصلہ شریعت اسلام کے مطابق کیا جائے حالانکہ مصر میں ان کو مغربی قانون پر مبنی سول کورٹ کے مطابق انصاف حاصل کرنے کا حق حاصل ہے۔

’’مسلم پرسنل لا‘‘ کے نام پر ہندوستان میں چلنے والا قانون دراصل انگریز ی قانون ہے جو انگریزی سامراجی عہد میں عدالتوں کے فیصلوں کا خلاصہ ہے جسے ایک پارسی مسٹردنشا فریدونجی ملا Mulla نے Principles of Mohammedan Lawکے نام سے جمع کردیا تھا اورہماری عدالتیں بنیادی طورپر اسی کو آج بھی مانتی ہیں۔وزیر اعظم راجیو گاندھی کے زمانے سے مسلم پرسنل لا بورڈ سے حکومت ہند نے درخواست کی تھی کہ وہ ایک جامع مجموعہ پرسنل لا کا تیار کرکے حکومت کو دے دے تو اسے نافذ کردیا جائے لیکن تیس سال کے بعد بھی بورڈ سے یہ کام نہیں ہوسکاہے ۔ مجموعۂ قوانین کے نام سے جو مختصر کتاب بورڈ نے شائع کی ہے وہ بالکل ناقص ہے نیز وہ سب مسالک کی نمائندگی نہیں کرتی۔یہ کتاب بورڈ کی ویب سائٹ سے ہٹادی گئی ہے۔بہرحال یہ کام اب بھی باقی ہے۔

باہر سے آنے والا مسئلہ یا دباؤ ہمارا اصل مسئلہ نہیں ہے، بلکہ اصل مسئلہ ہماری اپنی بدعملی اور اسلامی قوانین وشعائر سے بے رخی ہے۔ آج یونیفارم سول کوڈ کا مسئلہ اس لئے اٹھا ہے کہ ظالم طلاق ثلاثہ کی بدعت پر اصرار کی وجہ سے خود ہم نے دشمنوں کو موقع فراہم کیا ہے۔ اگرہم قرآن پاک کے بتائے ہوئے طریقے پر عمل کررہے ہوتے تو آج ہمارے معاشرے میں شاذونادر ہی طلاقیں ہورہی ہوتیں۔ لیکن ہم ایک بدعت پر اصرار کررہے ہیں جبکہ اللہ پاک نے واضح طریقے سے طلاق کے لئے ایک تین ماہ کا پروسیجر بتایا ہے جس پر عمل کرکے زوجین کے درمیان دنیا کا ہر مسئلہ حل کیا جاسکتا ہے۔ صرف طلاق ثلاثہ ہی نہیں ہماری قوم کی اکثریت اسلامی قوانین پر اسی وقت عمل کرتی ہے جب اس میں اس کا کوئی فائدہ ہوتا ہے ورنہ بڑے بڑے متشرع اور ٹخنوں کے اوپر پائینچہ رکھنے والے بھی اسلامی قانون سے روگردانی کرکے اپنی مطلقات، اولاد ، بھائیوں اور بہنوں کا حق مارتے ہیں،غریب رشتہ دار وں کے گھر وں اور کھیتوں پر قبضہ کرتے ہیں،ملازموں کو ان کا حق نہیں دیتے ہیں اور جب خود ملازمت کرتے ہیں تو اس کا بھی حقِ ادا نہیں اداکرتے ہیں۔یہاں میں میوات کے ایک مولوی کا واقعہ بتانا چاہتا ہوں جس نے عدالت سے کہا کہ مجھے شریعت کا قانون نہیں بلکہ میوؤں کے قانون کے مطابق فیصلہ چاہئے کیونکہ میوؤں کا پرسنل لا ہندؤں کی طرح عورتوں کو میراث میں حق نہیں دیتا ہے۔

آج ہم پر ملک کے اندر اور ملک کے باہر جو مذلت اور خواری مسلط ہے وہ ہماری اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے ہے۔اگر ہم صحیح معنی میں مسلمان ہوتے، اپنے بھائیوں ،بیویوں، بچوں ، بہنوں اور رشتے داروں کا، پڑوسیوں اور معاملہ کرنے والوں کا حق ادا کرتے، قرضے لوٹاتے اور حقوق اداکرتے ، تو دنیا ہم کو الصادق اور الامین کہتی اور کوئی ہم کو اور ہمارے مذہب کو گالی نہیں دیتا بلکہ آج بھی جوق درجوق اغیار اسلام میں داخل ہورہے ہوتے۔ضرورت ہے کہ ہم خود کو سدھاریں اور ہرمعاملے میں جہاں ہمارا بس چلتا ہے، اللہ اور اس کے رسولؐ کی مرضی کے مطابق زندگی گذاریں ۔اگر ہم ایسا کریں گے توساری دنیا ہمارا احترام کرے گی اور اگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو ’’خیر امت ‘‘ ہونے کے محض دعوے سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا۔

میں یہاں شام کا ایک چشم دید واقعہ سنانا چاہتا ہوں، یہ بتانے کے لئے کہ اللہ کا عذاب اور مصیبتیں بلا وجہ نہیں آتی ہیں۔ یہ رمضان سنہ۲۰۰۷کا واقعہ ہے جب میں شام کے دارالسلطنت دمشق میں تھا ۔میں وہاں حماس کے لیڈر خالد مشعل سے انٹر ویو لینے گیا تھا جو اب بھی ملی گزٹ کی ویب سائٹ پر دیکھا جاسکتا ہے ،البتہ اس واقعے کا ذکر وہاں نہیں ہے۔ میرا ہوٹل مسجد اموی کے پاس ہی تھا۔ یہ ایک عظیم الشان تاریخی مسجد ہے جس کے وسیع وعریض صحن میں حضرت یحییٰ علیہ السلام کی قبر بھی ہے۔ میں جب مغرب سے کچھ دیر پہلے وہاں پہنچا تو صدر دروازے سے داخلہ بند تھا اور تیر کے نشان سے ’’موائد الرحمٰن‘‘ کی طرف راستہ بتایا گیا تھا۔ عرب ممالک میں امراء اور تجار رمضان میں افطار کرانے کے لئے مساجد میں” موائد الرحمٰن” (یعنی اللہ کا دستر خوان )کا انتظام کرتے ہیں۔باہر سے شامی میٹھی روٹی (معمول) اور پانی کی ایک بوتل لے کر میں بھی تیر کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے لگا اور بہت دور چل کر پیچھے کی طرف سے مسجد اموی کے صحن میں داخل ہوگیا اور اندر کافی چل کر حضرت یحییٰ علیہ السلام کی قبر کے پاس جا کر اور لوگوں کے ساتھ بیٹھ گیا جو بڑی بڑی قطاروں میں پورے وسیع صحن میں بیٹھے ہوئے تھے۔ جلد ہی افطاری اور دوسرے لوازم پروس دئے گئے اور افطار کا سائرن بجتے ہی سب نے کھانا شروع کردیا۔ میرے پاس بیٹھے ہوئے لوگوں نے مجھے بھی اس افطار میں سے کچھ کھانے پر مجبور کیا۔ کچھ دیر میں لوگ کھانا کھاکھا کر مسجد سے باہر جانے لگے۔میرے اندازے کے مطابق اس وسیع وعریض صحن میں اس وقت تقریباً دس ہزار لوگ ہوں گے جنہوں نے افطار کیا۔ لیکن ان میں سے صرف دس ۔ پندرہ اشخاص نے ہی نماز پڑھی، باقی سب دھیرے دھیرے باہر چلے گئے۔ مجھے یہ دیکھ کر بڑا تعجب ہوا ۔ ہمارے ملک میں عام طور سے سال بھر نماز نہ پڑھنے والے بھی رمضان میں نماز پڑھتے ہیں۔ نماز پڑھ کر میں مسجد کے صدر دروازے کے پاس گیا جہاں کچھ دفتر تھے ۔میں نے وہاں کھڑے لوگوں سے کہا کہ مجھے مسجد کے منتظم سے بات کرنی ہے۔ مجھے بتایا گیا کہ وزیر اوقاف آئے ہوئے ہیں اور منتظم صاحب انہیں کے ساتھ مشغول ہیں۔ جب میں نے اصرار کیا کہ مجھے کسی ذمے دار سے ملنا ہے تو ایک صاحب ، جو غالباً وزیر کے سکریٹری تھے ،اندر سے نکل کر آئے اور پوچھا کہ کیا بات ہے۔ میں نے ساری بات بتائی کہ میں ہندوستان سے ایک زائر ہوں اور آج مجھے یہاں بڑی عجیب چیز نظر آئی کہ اتنے سب لوگوں نے اجتماعی افطار کیا لیکن ان کی اکثریت عظمیٰ نماز پڑھے بغیر چلی گئی۔ ان صاحب نے بے رخی سے جواب دیا کہ ’’ہم کسی کو نماز پڑھنے پر مجبور نہیں کرسکتے ہیں‘‘۔یہ سن کر میں نے کہا ٹھیک ہے ،میں نے اپنا فرض نبھا دیا ہے۔دہلی واپس آکر میں نے بیروت میں ایک دوست کو یہ تفصیلات بھیجیں ، جو ایک ریسرچ سنٹر کے ڈائرکٹر ہیں، تو ان کا جواب آیا: ’’انا للہ وانا الیہ راجعون‘‘۔ یہ ہماری ملت کی موت کی ایک نشانی تھی۔ اللہ پاک نے واضح طریقے سے بتایا ہے دنیا میں عمومی عذاب ہمارے اپنے اعمال کی وجہ سے ہوتا ہے (الروم:۴۱) اور جب عذاب آتا ہے تو صرف گنہ گار ظالم ہی اس کا شکار نہیں ہوتے ہیں بلکہ وہ عذاب علاقے میں رہنے والے دوسرے لوگوں کے لئے بھی ہوتا ہے (الانفال:۲۵)۔

جب شامی ملت کی دین کے ایک بنیادی معاملے میں ایسی بے حسی تھی تو اور معاملات کے بارے میں کیا رہی ہوگی وہ آپ سوچ سکتے ہیں اور اسی کی وجہ سے ان پر آج ایک عظیم عذاب آیا ہوا ہے۔ پچھلے چھ سال سے شام میں خانہ جنگی کے حالات ہیں، چار لاکھ شامی قتل ہوچکے ہیں، پورا ملک کھنڈر بن چکا ہے،ملک کی آدھی آبادی ریفیوجی بن چکی ہے اور جنگ کہیں رکنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ملک کے اندر درجنوں حکومتیں کام کررہی ہیں جنہوں نے ملک کے الگ الگ علاقوں پر قبضہ کررکھا ہے ۔مجھے کبھی کبھی لگتا ہے کہ ہم بھی یہاں اسی راہ پر جارہے ہیں۔پڑوس میں روہنگیا اور اس سے ذرا کم درجے میں سری لنکا کے مسلمانوں کے ساتھ آج جو ہورہا ہے وہ ہمارے یہاں بھی ہوسکتا ہے۔بلکہ گجرات ۲۰۰۲ ، آسام (بوڈو) ۲۰۱۲اور مظفر نگر ۲۰۱۳کی صورت میں چھوٹے پیمانے پر یہ ہو بھی چکا ہے جب ہر بار ہماری تقریباً ایک ایک لاکھ مسلم آبادی بے گھر کی گئی او ران کی اکثریت آج تک اپنے گھروں کو واپس نہیں جاپائی ہے ۔اس وقت آسام میں (۴۸) لاکھ مسلمانوں کی شہریت چھیننے کے انتظامات ہورہے ہیں جس کے بعد ان کو بنگلا دیش دھکیلا جائے گا یا جیلوں میں ٹھونس دیا جائے گا۔آج کل مودی کے آنے کے بعد چھوٹی موٹی باتوں پر آئے دن فساد اور قتل بھی ہر چند روز پر کہیں نہ کہیں ہورہا ہے لیکن ہندوستان کی سول سوسائٹی، حقوق انسانی کے علمبرداروں اور میڈیا پر جوں نہیں رینگتی ہے۔ اگر اس ظلم کا پیمانہ وسیع بھی ہوجائے تو یقین مانئے کہ باہر سے بھی ہماری مدد کے لئے کوئی نہیں آئے گا ، بالکل اسی طرح جیسے گجرات ، بوڈو اور مظفر نگر کی آفتوں کے وقت ساری دنیا خاموش تھی ۔ابھی بھی وقت ہے کہ ہم اپنا کردار اور اپنی زندگیاں درست کرلیں۔اسلام اور اعلیٰ کردار کے بغیر ہمارے لئے اس دنیا میں صرف ذلت اور رسوائی ہے۔

(ختم)

Published in Articles Urdu

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *