Skip to content →

مہذب اور غیرمہذب قوموں کا فرق

ڈاکٹر ظفرالاسلام خان

مصیبتیں، حادثات اور جرائم ہر ملک اور سوسائٹی میں پیش آتے ہیں۔ ان کے بعد سماج اور حکومتوں کا رویہ بتاتا ہے وہ ملک اور سوسائٹی مہذب ہے یاغیر مہذب ۔آفت زدہ اور کمزور کے تئیں ہمارا عمل اور سلوک بتاتا ہے کہ ہم مہذب ہیں یاغیر مہذب۔ زبان سے ورد کرنے سے کوئی مہذب نہیں ہو جاتا۔

پاکستان میں بابری مسجد کے انہدام کے بعد کچھ مندر توڑے گئے۔ اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف نے فوری اقدام کیا اور پولیس کو حکم دیا کہ توڑنے والوں کو گرفتار کر کے تڑائی کی جائے۔ یہی نہیں، انھوں نے تشدد زدہ مندروں کی تعمیر و ترمیم سرکاری خرچ پر کرائی۔ 

ہمارے یہاں بابری مسجد پر دسمبر ۱۹۴۹ء میں رات کے اندھیرے میں قبضہ کر لیا گیا،عدالت کے حکم سے اس غاصبانہ قبضے کو برقرار رکھا گیا، ۱۹۸۶ میں اس کا تالہ توڑ دیا گیا اور بالآخر ۱۹۹۲ء میں اسے مسمار کرکے وہاں ایک مندر بنا دیا گیا جس کے آس پاس مسلمانوں کا پھٹکنا بھی منع ہے۔ لیکن سارے ملزم نہ صرف آزاد ہیں بلکہ ملک کے بڑے بڑے عہدوں پر ان جرائم کے بعد، بلکہ ان کی وجہ سے ، فائز بھی رہے۔ مغربی پنجاب کے شہر لاہور میں مسجد شہید گنج پررنجیت سنگھ کے زمانے میں قبضہ کر کے اسے گرودوارہ بنا دیا گیا تھا۔ انگریز نے ۱۸۴۹ میں جب پنجاب پر قبضہ کیا تو وہ جگہ گرودوارہ تھی ، لہذا حالت قائمہ (status quo)کے قانونی اصول کی بنیاد پر انگریز عدالت میں مسلمان قانونی کیس ہار گئے۔پاکستان بننے کے بعد اس گرودوارہ کو دوبارہ مسجد میں تبدیل نہیں کیا گیا۔ 

کچھ دنوں قبل پاکستانی صوبۂ پنجاب کے ایک وزیر نے ہندوؤں کے خلاف کچھ کہا تو اسے فورا منصب وزارت سے برطرف کر دیا گیا۔ ہمارے یہاں بی جے پی کے مرکزی اور صوبائی وزراء، ممبران پارلیمنٹ و اسمبلی کا روز کا مشغلہ اقلیتوں کے خلاف ہرزہ سرائی کا ہے۔ وہ مسلمانوں کو پاکستان چلے جانے کا مشورہ دیتے ہیں۔ اس سب پر ان لوگوں کی کوئی نکیر نہیں ہوتی بلکہ شائد پارٹی کی نظر میں ان کا قد بڑھ جاتا ہے۔

نیوزی لینڈ میں مسجد پر دردناک دہشت گردانہ حملہ ہوا۔ عوام ا ور سرکاری مشنری پوری طرح سے منٹوں کے اندر مسلمانوں کا زخم بھرنے اور ان کا ساتھ دینے کے لئے کھڑی تھی۔ وہاں کی خاتون وزیر اعظم نے کہا کہ دہشت گردی کی ہماری دنیا میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ تعزیت کی سرکاری تقریب میں ایک مسلم پولیس خاتون افسر کو حکومت کی طرف سے بولنے کے لئے کھڑا کیا گیا۔ اس سے قبل نیوزیلینڈ کے پڑوسی ملک آسٹریلیا میں ایک ہندستانی مسلم ڈاکٹر کودہشت گردی کے الزام میں گرفتار کیا گیا اور ملک سے نکالا گیا تھا۔ جب وہ بات غلط ثابت ہوئی تو حکومت نے معافی مانگی، مذکورہ ڈاکٹر کو خطیر معاوضہ دیا گیا اور اسے واپس با عزت طور پر آسٹریلیا بلایا گیا۔۔

امریکہ کہہ رہا ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کے خلاف ظلم کی وجہ سے برما پر عقوبات (سینکشنز) جاری ہوں گے۔ ہمارے ملک میں ان بے بس تارکین وطن پر زندگی تنگ ہے، جموں میں تو ان کو قتل بھی کیا جارہا ہے اور ان کی جھگیاں جلائی جا رہی ہیں جبکہ ہمسایہ ممالک سے آنے والے غیر مسلم تارکین وطن کو گلے لگایا جارہا ہے۔

ہمارے یہاں مسلمانوں پر حملے ہوتے ہیں تو سرکاری ذمہ داروں کے منھ پر تالے پڑ جاتے ہیں۔ میڈیا اور بالخصوص سوشل میڈیامیں مختلف انداز میں اس کا استقبال ہوتا ہے اور کوئی قانون حرکت میں نہیں آتا ہے۔ فسادات چاہے بھاگلپور ۱۹۸۹ ، گجرات ۲۰۰۲ یا مظفرنگر ۲۰۱۳ ہوں، ہر جگہ ملزموں کو بچانے کے لئے سرکاری مشنری اور لوگ کھڑے ہو جاتے ہیں۔

ایک مرکزی وزیر نے لنچنگ (ہجومی قتل) کے مجرمین کو گھر بلا کربلا کر ہار پہنایا، استقبالیہ دیا اور ان کے ساتھ فوٹو کھنچوایا۔ لنچنگ کے شکار لوگوں حتی کہ مقتولین کے خلاف پولیس مقدمات قائم کرتی ہے تاکہ اصل ملزمین بچ جائیں۔ بابو بجرنگی جیسا ہٹلرصفت ملزم، جس کی نرودا پاٹیا میں اجتماعی لنچنگ کی وجہ سے سر عام پھانسی ہونی چاہئے تھی ،آج ضمانت پر گھوم رہا ہے۔ کیا یہ مہذب قوموں کی نشانیاں ہیں؟ کیا یہی سیکولرزم اور ڈیموکریسی اور رول آف لا(حاکمیت قانون) ہے؟ اگر یہی مہذب قانون اور مہذب معاشرہ ہے تو جنگل اور جنگل کا قانون کیا ہے؟ _observed

Published in Articles Urdu

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *