Skip to content →

شجاعت بخاری : ایک ہیرا تھا، نہ رہا

ڈاکٹر ظفرالاسلام خاناز
شجاعت بخاری نہ صرف کشمیر بلکہ ہندوستان کے ممتاز صحافیوں میں سے ایک تھے۔ پچھلی تین دہائیوں میں کشمیر نے ملک کو تین بڑے صحافی دئے ہیں، ان میں سے ایک شجاعت بھی تھے۔وہ نہ صرف اپنے فن پر پوری طرح قادرتھے بلکہ ان کوایک حقیقی صحافی یعنی حالات کا غیر جانبدار مبصر ہونے اور حق کے لئے جانبدار ہونے کا فن بھی پوری طرح آتا تھا ۔ وہ اپنی صحافتی زندگی میں ان خصوصیات کا پوری طرح پالن کرتے رہے۔ میں ان کو ذاتی طور سے اس وقت سے جانتا تھا جب وہ “دی ہندو” اخبار سے وابستہ تھے۔ پھر انہوں نے کشمیر سے انگریزی اور اردو روزنامے اور اردو میں ایک ہفت روزہ میگزین جاری کئے جنہوں نے بہت جلد اپنی دیانتداری اور غیر جانبداری سے اپنا مقام نہ صرف کشمیر اور ملک میں بلکہ دنیا بھرمیں بنالیا۔حق کہنے والے کے بہت لوگ دشمن ہوجاتے ہیں۔ ایسی ہی کسی احمق طاقت یا تنظیم نے ان کی ناحق طور سے جان لے لی۔

میں سمجھتا ہوں کہ پچھلی تین دہائیوں میں جو گن کلچر کشمیر میں عام ہوا ہے اورجیسے طرح طرح کی سرکاری اور جنگجو تنظیمیں سطح کے نیچے وہاں کام کررہی ہیں، وہی شجاعت کی قبل از وقت موت کا ذمہ دارہے۔کسی بھی معاشرے میں بندوق کے عام ہوجانے کے بعد وہاں سے عقل، منطق اور انصاف اٹھ جاتا ہے اور اس ماحول میں بے گناہوں کی پوری بے ضمیری اور بے دردی کے ساتھ بلی دی جاتی ہے۔ کشمیر میں پروفیسر مشیر الحق جیسے اعلی دانشور سے لے کر شجاعت بخاری جیسے بے نظیر صحافی کے قتل کے بیچ کتنے ہی معصو موں کا قتل ناحق سرکاری اور جنگجو بندوق برداروں کے ہاتھوں ہوا ہے۔ ضرورت ہے کہ یہ لاقانونیت دونوں طرف سے بند ہو۔ایک لاکھ لاشوں کے گرنے کے بعد جنگجوؤں کو اب یہ سمجھ لینا چاہئے کہ بندوق کے ذریعے ان کو اپنا سیاسی مقصد نہیں ملے گا ۔ اسی طرح سرکاری بندوق برداروں اور ان کے بے ضمیر آقاؤں کو بھی عقل آجانی چاہئے کہ بندوق کے بل پر وہ کشمیری عوام کو مطمئن یا خاموش نہیں کرسکتے ہیں۔

اگر سرکاری اور جنگجو بندوق برداروں کو اب بھی عقل آجائے اور ایک مہذب ڈائیلاگ شروع ہو جس میں کشمیری قوم کی بات سنجیدگی سے سنی جائے اورایک ایسا حل تلاش کیا جائے جو کشمیر کی اکثریت کوقابل قبول ہو تو میں کہوں گا کہ شجاعت بخاری کی شہادت رائیگاں نہیں گئی بلکہ شہید ہوکر بھی انھوں نے ایک بڑا کارنامہ انجام دیا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوسکا تو کشمیر میں ابھی اور بہت خون بہے گا اور بالآخر اس کے علاوہ کوئی اور نتیجہ نہیں برآمد ہوگا کہ فریقین تھک ہار کر مذاکرے کی میز پر بیٹھ کر ایک سیاسی حل نکالیں گے۔ عقلمند وہ کام بہت پہلے کرلیتا ہے جو احمق بعد از خرابئ بسیار کرتے ہیں۔

مضمون نگار ایک سینئر صحافی ہیں جو ۲۰۰۰ ۔ ۲۰۱۶ کے دوران ملی گزٹ کے ایڈیٹر رہ چکے ہیں۔

Published in Articles News Urdu

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *